مورخہ ۱۶ دسمبر ۲۰۱۸ کو بزم استعارہ کی پہلی
شعری نشست میں پڑھی گئی غزل
ـــــــــــــــــــ
صائب جعفری
ــــــــــــــــــــ
کائناتِ دلِ غمِ گزیدہ تیرے فرماں کے زیرِ نگیں ہے
مہبطِ شادئِ قلبِ عاشق ٹھوکروں میں تری جاگزیں ہے
ادامه مطلبطبق زمین کے ہیں نور میں نہائے ہوئے(مقبت)
دل ہے صحرا یہ کوئی باغ یا گلزار نہیں
عباس کے مرنے سے کمر ٹوٹ گئی ہے(نوحہ)
جو نقش پہ حیدر کے چلتا نظر آتا ہے(منقبت)
گیا حیات کو اس طرح سرخرو کرکے استاد شہید سبط جعفر زیدی
ایطا یا شائگاں (مضمون عیوب قافیہ)
آگئیں زہرا نبوت کو سہارا مل گیا(منقبت)
کائنات دل غم گزیدہ تیرے فرماں کے زیر نگیں ہے (غزل)
خلد و کوثر پہ حق ذرا نہ ہوا(منقبت)
ایسے بھی میری بات کو.سنتا کوئی تو کیا(غزل)
عجیب سودا مرے سر میں جو سخاوت کا تھا (غزل بر وزن طبع زاد)
تضمین بر مصرع غالب ـــــــ طاقت بیداد انتظار نہیں ہے(غزل)
حسنین پہ ہے آفت کی گھڑی کیا وقت پڑا ہے زہرا پر (نوحہ)
ہوسکے تو یہ وصیت ہے نبھانا اے علی (نوحہ وصیت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا)
ہے ,غزل ,گزیدہ ,میں ,نگیں ,تیرے ,فرماں کے ,نگیں ہے ,گزیدہ تیرے ,تیرے فرماں ,عاشق ٹھوکروں
درباره این سایت